Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 42

Tafseer
  1. اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ﴿42﴾

    1. اَوْ نُرِيَنَّكَیا ہم دکھائیں آپ کو
    2. الَّذِيْوہ چیز
    3. وَعَدْنٰهُمْوعدہ کیا ہم نے ان سے
    4. فَاِنَّاتو بیشک ہم
    5. عَلَيْهِمْان پر
    6. مُقْتَدِرُوْنَقدرت رکھنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یا تم کو آنکھوں  سے  اِن کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے  اِن سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں اِن پر پُوری قدرت حاصل ہے۔37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّخْرُف 37 اس ارشاد کا مطلب اس ماحول کو نگاہ میں رکھنے سے ہی اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے۔ کفار مکہ یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد ﷺ کی ذات ہی ان کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے، یہ کانٹا درمیان سے نکل جائے تو پھر سب اچھا ہوجائے گا۔ اسی گمان فاسد کی بنا پر وہ شب و روز بیٹھ بیٹھ کر مشورے کرتے تھے کہ آپ کو کسی نہ کسی طرح ختم کردیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے رخ پھیر کر اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہارے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم زندہ رہو گے تو تمہاری آنکھوں کے سامنے ان کی شامت آئے گی، اٹھا لیے جاؤ گے تو تمہارے پیچھے ان کی خبر لی جائے گی۔ شامت اعمال اب ان کی دامنگیر ہوچکی ہے جس سے یہ بچ نہیں سکتے۔