Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 18

  1. اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿18﴾

    1. اَنْ اَدُّوْٓا(اس نے کہا) کہ حوالے کر دو
    2. اِلَيَّمیری طرف
    3. عِبَادَ اللّٰهِاللہ کے بندوں کو
    4. ۭ اِنِّىْبیشک میں
    5. لَكُمْتمہارے لیے
    6. رَسُوْلٌ اَمِيْنٌرسول ہوں امانت دار
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اس نے کہا”15اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو،16 میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسُول ہوں۔17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 15 یہ بات ابتدا ہی میں سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں حضرت موسیٰ کے جو اقوال نقل کیے جا رہے ہیں وہ ایک وقت میں ایک ہی مسلسل تقریر کے اجزا نہیں ہیں، بلکہ سالہا سال کے دوران میں مختلف مواقع پر جو باتیں انہوں نے فرعون اور اس کے اہل دربار سے کہی تھیں ان کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 83 تا 97، یونس، حواشی، 72 تا 93، جلد سوم، طہ، حواشی 18 الف تا 52، الشعراء، حواشی 7 تا 49، النمل، حواشی 8 تا 17، القصص، حواشی 46 تا 56،۔ جلد چہارم، المومن، آیات 23 ت 46۔ الزخرف 46 تا 56 مع حواشی) سورة الدُّخَان 16 اصل میں اَدُّوْا اِلَیَّ عِبَاد اللہِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو اوپر ہم نے کیا ہے اور اس کے لحاظ سے یہ اس مطالبے کا ہم معنی ہے جو سورة اعراف (آیت 105) ، سورة طٰہٰ (47) اور الشعراء (17) میں گزر چکا ہے کہ " بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دو " دوسرا تر جمہ، جو حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے، یہ ہے کہ " اللہ کے بندو میرا حق ادا کرو " یعنی میری بات مانو، مجھ پر ایمان لاؤ، اور میری ہدایت کی پیروی کرو، یہ خدا کی طرف سے تمہارے اوپر میرا حق ہے۔ بعد کا یہ فقرہ کہ " میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں " اس دوسرے مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ سورة الدُّخَان 17 یعنی بھروسے کے قابل رسول ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی بات ملا کر کہنے والا نہیں ہوں۔ نہ اپنی کسی ذاتی خواہش یا غرض کے لیے خود ایک حکم یا قانون گھڑ کر خدا کے نام سے پیش کرنے والا ہوں۔ مجھ پر تم یہ اعتماد کرسکتے ہو کہ جو کچھ میرے بھیجنے والے نے کہا ہے وہی بےکم وکاست تم تک پہنچاؤں گا۔ (واضح رہے کہ یہ دو فقرے اس وقت کے ہیں جب حضرت موسیٰ نے سب سے پہلے اپنی دعوت پیش فرمائی تھی)۔