تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 19
وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ﴿19﴾
- وَّاَنْ لَّااور یہ کہ نہ
- تَعْلُوْاتم سرکشی کرو
- عَلَي اللّٰهِاللہ کے مقابلے پر
- اِنِّىْٓبیشک میں
- اٰتِيْكُمْلایا ہوں تمہارے پاس
- بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍکھلی دلیل
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے (اپنی مامُوریّت کی)صریح سَنَد پیش کرتا ہوں۔18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 18
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے مقابلے میں جو سرکشی تم کر رہے ہو یہ دراصل اللہ کے مقابلے میں سرکشی ہے، کیونکہ میری جن باتوں پر تم بگڑ رہے ہو وہ میری نہیں بلکہ اللہ کی باتیں ہیں اور میں اسی کے رسول کی حیثیت سے انہیں بیان کر رہا ہوں۔ اگر تمہیں اس میں شک ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں یا نہیں، تو میں تمہارے سامنے اپنے مامور من اللہ ہونے کی صریح سند پیش کرتا ہوں۔ اس سند سے مراد کوئی ایک معجزہ نہیں ہے بلکہ معجزات کا وہ طویل سلسلہ ہے جو فرعون کے دربار میں پہلی مرتبہ پہنچنے کے بعد سے آخر زمانہ قیام تک حضرت موسیٰ ؑ فرعون اور اس کی قوم کو سالہا سال تک دکھاتے رہے۔ جس سند کو بھی ان لوگوں نے جھٹلایا اس سے بڑھ کر صریح سند آپ پیش کرتے چلے گئے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف حواشی نمبر 42۔ 43)۔