تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 36
Tafseerفَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿36﴾
- فَاْتُوْاپس لے آؤ
- بِاٰبَآئِنَآہمارے باپ دادا کو
- اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
- صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ دادا کو۔“31
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 31
ان کا استدلال یہ تھا کہ ہم نے کبھی مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جی اٹھتے نہیں دیکھا ہے، اس لیے ہم یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہوگی۔ تم لوگ اگر دعویٰ کرتے ہو کہ دوسری زندگی ہوگی تو ہمارے اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ تاکہ ہمیں زندگی بعد موت کا یقین آجائے۔ یہ کام تم نے نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارا دعویٰ بےبنیاد ہے۔ یہ گویا ان کے نزدیک حیات بعد الموت کی تردید میں بڑی پختہ دلیل تھی۔ حالانکہ سراسر مہمل تھی۔ آخر ان سے یہ کہا کس نے تھا کہ مرنے والے دوبارہ زندہ ہو کر اسی دنیا میں واپس آئیں گے ؟ اور نبی ﷺ یا کسی مسلمان نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ ہم مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ؟