تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 37
Tafseerاَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴿37﴾
- اَهُمْ خَيْرٌکیا وہ اچھے ہیں
- اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍیا تبع کی قوم
- وَّالَّذِيْنَاور وہ لوگ
- مِنْ قَبْلِهِمْجو ان سے پہلے تھے
- اَهْلَكْنٰهُمْہلاک کردیا ہم نے ان کو
- ۡ اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْا مُجْرِمِيْنَمجرم تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ بہتر ہیں یا تُبع کی قوم32 اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مُجرم ہوگئے تھے۔33
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 32
تبع قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کسریٰ ، قیصر، فرعون وغیرہ القاب مختلف ممالک کے بادشاہوں کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 عیسیوی تک یہ حکمراں رہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورة سبا، 37)
سورة الدُّخَان 33
یہ کفار کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انکار آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ انسانی شاہد ہے کہ زندگی کے اس نظریہ کو جس قوم نے بھی اختیار کیا ہے وہ آخر کار تباہ ہو کر رہی ہے۔ رہا یہ سوال کہ " یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اس سے پہلے کے لوگ "؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفار مکہ تو اس خوش حالی و شوکت و حشمت کو پہنچ ہی نہیں سکے ہیں جو تبع کی قوم، اور اس سے پہلے سبا اور قوم فرعون اور دوسری قوموں کو حاصل رہی ہے۔ مگر یہ مادی خوشحالی اور دنیاوی شان و شوکت اخلاقی زوال کے نتائج سے ان کو کب بچا سکتی تھی۔ یہ اپنی ذرا سی پونجی اور اپنے ذرائع و وسائل کے بل بوتے پر بچ جائیں گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورة سباء، حواشی نمبر 25۔ 36)