Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 39

Tafseer
  1. مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿39﴾

    1. مَا خَلَقْنٰهُمَآنہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو
    2. اِلَّا بالْحَقِّمگر حق کے ساتھ
    3. وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْلیکن ان میں سے اکثر
    4. لَانہیں
    5. يَعْلَمُوْنَعلم رکھتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 34 یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی حیات بعد الموت اور آخرت کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل اس کارخانہ عالم کو کھلونا اور اس کے خالق کو نادان بچہ سمجھتا ہے، اسی بناء پر اس نے یہ رائے قائم کی ہے کہ انسان دنیا میں ہر طرح کے ہنگامے برپا کر کے ایک روز بس یونہی مٹی میں رل مل جائے گا اور اس کے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔ حالانکہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کی نہیں بلکہ ایک خالق حکیم کی بنائی ہوئی ہے اور کسی حکیم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ فعل عبث کا ارتکاب کرے گا۔ انکار آخرت کے جواب میں یہ استدلال قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، ہم اس کی مفصل تشریح کرچکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد، اول، الانعام، حاشیہ 46، جلد دوم، یونس، حواشی 10۔ 11، جلد سوم، الانبیاء، حواشی 16۔ 17، المومنون، حواشی 101۔ 102، الروم، حواشی 4 تا 10)۔