تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 40
Tafseerاِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ﴿40﴾
- اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِبیشک فیصلے کا دن
- مِيْقَاتُهُمْان کی میعاد ہے
- اَجْمَعِيْنَسب کی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن سب کے اُٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے،35
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 35
یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ " اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو "۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا تو نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے، فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اس کے لیے تو رب العالمین نے ایک وقت مقرر کردیا ہے جب تمام اولین و آخرین کو وہ دوبارہ زندہ کر کے اپنی عدالت میں جمع کرے گا اور ان کے مقدمات کا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ تم مانو چاہے نہ مانو، یہ کام بہرحال اپنے وقت مقرر پر ہی ہوگا۔ تم مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کیونکہ اس طرح قبل از وقت خبردار ہو کر اس عدالت سے کامیاب نکلنے کی تیاری کرسکو گے۔ نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، کیونکہ اپنی ساری عمر اس غلط فہمی میں کھپا دو گے کہ برائی اور بھلائی جو کچھ بھی ہے بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے، مرنے کے بعد پھر کوئی عدالت نہیں ہونی ہے جس میں ہمارے اچھے یا برے اعمال کا کوئی مستقل نتیجہ نکلنا ہو۔