Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 55

  1. یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ﴿55﴾

    1. يَدْعُوْنَوہ طلب کریں گے
    2. فِيْهَااس میں
    3. بِكُلِّہر قسم کے
    4. فَاكِهَةٍپھل
    5. اٰمِنِيْنَامن سے رہنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔43
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 43 " اطمینان سے " طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز جتنی چاہیں گے بےفکری کے ساتھ جنت کے خادموں کو اس کے لانے کا حکم دیں گے اور وہ حاضر کردی جائے گی۔ دنیا میں کوئی شخص ہوٹل تو درکنار، خود اپنے گھر میں اپنی چیز بھی اس اطمینان سے طلب نہیں کرسکتا جس طرح وہ جنت میں طلب کرے گا۔ کیونکہ یہاں کسی چیز کے بھی اتھاہ ذخیرے کسی کے پاس نہیں ہوتے، اور جو چیز بھی آدمی استعمال کرتا ہے اس کی قیمت بہرحال اس کی اپنی جیب ہی سے جاتی ہے۔ جنت میں مال اللہ کا ہوگا اور بندے کو اس کے استعمال کی کھلی اجازت ہوگی۔ نہ کسی چیز کے ذخیرے ختم ہوجانے کا خطرہ ہوگا نہ بعد میں بل پیش ہونے کا کوئی سوال۔