تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 8
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ﴿8﴾
- لَآ اِلٰهَنہیں کوئی الہ برحق
- اِلَّا هُوَمگر وہی
- يُحْيٖوہ زندہ کرتا ہے
- وَيُمِيْتُاور وہ موت دیتا ہے
- رَبُّكُمْرب تمہارا
- وَرَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِيْنَاور رب تمہارے آباؤاجداد کا۔ پہلوں کا
Translation · Tafheem-ul-Quran
کوئی معبُود اُس کے سوا نہیں ہے۔7 وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔8 تمہارا ربّ اور تمہارے اُن اسلاف کا ربّ جو پہلے گزر چکے ہیں۔9
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 7
معبود سے مراد ہے حقیقی معبود جس کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت (بندگی و پرستش) کی جائے۔
سورة الدُّخَان 8
یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ جس نے بےجان مادوں میں جان ڈال کر تم کو جیتا جاگتا انسان بنایا، اور جو اس امر کے کلی اختیارات رکھتا ہے کہ جب تک چاہے تمہاری اس زندگی کو باقی رکھے اور جب چاہے اسے ختم کر دے، اس کی تم بندگی نہ کرو، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرو، یا اس کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کرنے لگو۔
سورة الدُّخَان 9
اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تمہارے جن اسلاف نے اس کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنائے، ان کا رب بھی حقیقت میں وہی تھا۔ انہوں نے اپنے اصلی رب کے سوا دوسروں کی بندگی کر کے کوئی صحیح کام نہ کیا تھا کہ ان کی تقلید کرنے میں تم حق بجانب ہو اور ان کے فعل کو اپنے مذہب کے درست ہونے کی دلیل ٹھہرا سکو۔ ان کو لازم تھا کہ وہ صرف اسی کی بندگی کرتے کیونکہ وہی ان کا رب تھا۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو تمہیں لازم ہے کہ سب کی بندگی چھوڑ کر اسی ایک کی بندگی اختیار کرو کیونکہ وہی تمہارا رب ہے۔