تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 29
هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿29﴾
- ھٰذَا كِتٰبُنَایہ ہے کتاب ہماری
- يَنْطِقُبولے گی
- عَلَيْكُمْتم پر
- بِالْحَقِّحق کے ساتھ
- اِنَّابیشک ہم
- كُنَّا نَسْتَنْسِخُلکھواتے تھے ہم
- مَا كُنْتُمْجو تھے تم
- تَعْمَلُوْنَتم عمل کرتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اُوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھواتے جا رہے تھے۔“42
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 42
لکھوانے کی صرف یہی ایک ممکن صورت نہیں ہے کہ کاغذ پر قلم سے لکھوایا جائے۔ انسانی اقوال و افعال کو ثبت کرنے اور دوبارہ ان کو بعینہ اسکی شکل میں پیش کردینے کی متعدد دوسری صورتیں اسی دنیا میں خود انسان دریافت کرچکا ہے، اور ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ آگے اس کے اور کیا امکانات پوشیدہ ہیں جو کبھی انسان ہی کی گرفت میں آجائیں گے۔ اب یہ کون جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح انسان کی ایک ایک بات، اور اس کی حرکات و سکنات میں سے ایک ایک چیز، اور اس کی نیتوں اور ارادوں اور خواہشات اور خیالات میں سے ہر مخفی سے مخفی شے کو ثبت کرا رہا ہے، اور کس طرح وہ ہر آدمی، ہر گروہ اور ہر قوم کا پورا کارنامہ حیات بےکم وکاست اس کے سامنے لا رکھے گا۔