تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 10
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿10﴾
- قُلْفرمادیں
- اَرَءَيْتُمْبھلا تم دیکھو تو
- اِنْ كَانَاگر ہے
- مِنْ عِنْدِ اللّٰهِاللہ کے پاس سے
- وَكَفَرْتُمْاور تم نے انکار کیا
- بِهٖاسکا
- وَشَهِدَاور گواہی دی
- شَاهِدٌایک گواہ
- مِّنْۢسے
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
- عَلٰي مِثْلِهٖاس جیسی (ایک کتاب) پر
- فَاٰمَنَپھر وہ ایمان لے آیا
- وَاسْتَكْبَرْتُمْ ۭاور تم نے تکبر کیا
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- لَا يَهْدِيہدایت نہیں دیتا
- الْقَوْمَلوگ
- الظّٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی ؐ ، ان سے کہو”کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا(تو تمہارا کیا انجام ہو گا)؟13 اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔14 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 13
یہ وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے ایک دوسرے طریقہ سے سورة حٰم السجدہ، آیت 52 میں گزر چکا ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، تفسیر سورة مذکور، حاشیہ 69۔
سورة الْاَحْقَاف 14
مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے اس گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام کو لیا ہے جو مدینہ طیبہ کے مشہور یہودی عالم تھے اور ہجرت کے بعد نبی ﷺ پر ایمان لائے۔ یہ واقعہ چونکہ مدینہ میں پیش آیا تھا اس لیے ان مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ اس تفسیر کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص کا یہ بیان ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی تھی (بخاری، مسلم، نسائی، ابن جریر) ، اور اسی بنا پر ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابن سیرین، حسن بصری، ابن زید، اور عوف بن مالک الاشجعی جیسے متعدد اکابر مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے۔ مگر دوسری طرف عکرمہ اور شعبی اور مسروق کہتے ہیں کہ یہ آیت عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ پوری سورة مکی ہے۔ ابن جریر طبری نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے اور ان کا کہنا یہ ہے اوپر سے سارا سلسلہ کلام مشرکین مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے چلا آ رہا ہے اور آگے بھی سارا خطاب انہی سے ہے، اس سیاق وسباق میں یکایک مدینے میں نازل ہونے والی ایک آیت کا آجانا قابل تصور نہیں ہے۔ بعد کے جن مفسرین نے اس دوسرے قول کو قبول کیا ہے وہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت کو رد نہیں کرتے، بلکہ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت چونکہ حضرت عبداللہ بن سلام کے ایمان لانے پر بھی چسپاں ہوتی ہے، اس لیے حضرت سعد نے قُدَماء کی عادت کے مطابق یہ فرمان دیا کہ یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب وہ ایمان لائے اس وقت ان ہی کے بارے میں یہ نازل ہوئی، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت کے ٹھیک ٹھیک مصداق ہیں اور ان کے قبول ایمان پر یہ پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔
بظاہر یہی دوسرا قول زیادہ صحیح اور معقول محسوس ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ اس " گواہ " سے مراد کون ہے۔ جن مفسرین نے اس دوسرے قول کو اختیار کیا ہے ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد موسیٰ ؑ ہیں لیکن بعد کا یہ فقرہ کہ " وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے "۔ اس تفسیر کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ زیادہ صحیح بات وہی معلوم ہوتی ہے جو مفسر نیسا پوری اور ابن کثیر نے بیان کی ہے کہ یہاں گواہ سے مراد کوئی شخص نہیں، بلکہ بنی اسرائیل کا عام آدمی ہے۔ ارشاد الہی کا مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید جو تعلیم تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے یہ کوئی انوکھی چیز بھی نہیں ہے دنیا میں پہلی مرتبہ تمہارے ہی سامنے پیش کی گئی ہو اور تم یہ عذر کرسکو ہم یہ نرالی باتیں کیسے مان لیں جو نوع انسانی کے سامنے کبھی آئی ہی نہ تھیں۔ اس سے پہلے یہی تعلیمات اسی طرح وحی کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کے سامنے توراۃ اور دوسری کتب آسمانی کی شکل میں آ چکی ہیں ایک عام آ دمی ان کو مان چکا ہے، اور یہ بھی تسلیم کرچکا ہے کہ اللہ کی وحی ان تعلیمات کے نزول کا ذریعہ ہے۔ اس لیے تم لوگ یہ دعوی نہیں کرسکتے کہ وحی اور یہ تعلیمات ناقابل فہم چیزیں ہیں۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ تمہارا غرور وتکبر اور بےبنیاد و گھمنڈ ایمان لانے میں مانع ہے۔