تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 11
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ﴿11﴾
- وَقَالَاور کہا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا (کافر)
- لِلَّذِيْنَان کیلئے جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے ( مومن )
- لَوْ كَانَ خَيْرًااگر ہوتا بہتر
- مَّانہ
- سَبَقُوْنَآوہ پہل کرتے ہم پر
- اِلَيْهِ ۭاس کی طرف
- وَاِذْاور جب
- لَمْ يَهْتَدُوْانہ ہدایت پائی انہوں نے
- بِهٖاس سے
- فَسَيَقُوْلُوْنَتو اب کہیں گے
- ھٰذَآ اِفْكٌیہ جھوٹ
- قَدِيْمٌپُرانا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔15 چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔16
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 15
یہ ان دلائل میں سے ایک ہے جو قریش کے سردار عوام الناس کو نبی ﷺ کے خلاف بہکانے کیے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ قرآن برحق ہوتا اور محمد ﷺ ایک صحیح بات کی طرف دعوت دے رہے ہوتے تو قوم کے سردار اور شیوخ اور معززین آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے۔ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ چند ناتجربہ کار لڑکے اور چند ادنٰی درجہ کے غلام تو ایک معقول بات کو مان لیں اور قوم کے بڑے بڑے لوگ، جو دانا اور جہاندیدہ ہیں، اور جن کی عقل و تدبیر پر آج تک قوم اعتماد کرتی رہی ہے، اس کو رد کردیں۔ اس پر فریب استدلال سے وہ عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اس نئی دعوت میں خرابی ہے، اسی لیے تو قوم کے اکابر اس کو نہیں مان رہے ہیں، لہذا تم لوگ بھی اس سے دور بھاگو۔
سورة الْاَحْقَاف 16
یعنی ان لوگوں نے اپنے آپ کو حق و باطل کا معیار قرار دے رکھا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جس ہدایت کو یہ قبول نہ کریں وہ ضرور ضلالت ہی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اسے " نیا جھوٹ " کہنے کی ہمت نہیں رکھتے، کیونکہ اس سے پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) یہی تعلیمات پیش کرتے رہے ہیں، اور تمام کتب آسمانی جو اہل کتاب کے پاس موجود ہیں، ان ہی عقائد اور ان ہی ہدایات سے بھری ہوئی ہیں۔ اس لیے یہ اسے " پرانا جھوٹ " کہتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ سب لوگ بھی دانائی سے محروم تھے جو ہزاروں برس سے ان حقائق کو پیش کرتے اور مانتے چلے آ رہے ہیں، اور تمام دانائی صرف انکے حصے میں آگئی ہے۔