تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 28
فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿28﴾
- فَلَوْلَاپھر کیوں نہ
- نَصَرَهُمُمدد کی ان کی
- الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْاجنہیں بنالیا انہوں نے
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- قُرْبَانًاقرب حاصل کرنے کو
- اٰلِهَةً ۭمعبود
- بَلْ ضَلُّوْابلکہ وہ گم (غائب) ہوگئے
- عَنْهُمْ ۚان سے
- وَذٰلِكَاور یہ
- اِفْكُهُمْان کا بہتان
- وَمَااور جو
- كَانُوْا يَفْتَرُوْنَوہ افترا کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرّب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنا لیا تھا؟32 بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُں کے جھُوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 32
یعنی ان ہستیوں کے ساتھ عقیدت کی ابتداء تو انہوں نے اس خیال سے کی تھی کہ یہ خدا کے مقبول بندے ہیں، ان کے وسیلے سے خدا کے ہاں ہماری رسائی ہوگی۔ مگر بڑھتے بڑھتے انہوں نے خود انہی ہستیوں کو معبود بنا لیا، ان ہی کو مدد کے لیے پکارنے لگے، انہی سے دعائیں مانگنے لگے، اور ان ہی کے متعلق یہ سمجھ لیا کہ یہ صالح تصرف ہیں، ہماری فریاد رسی و مشکل کشائی ہی کریں گے۔ اس گمراہی سے ان کو نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اپنے رسولوں کے ذریعہ سے بھیج کر طرح طرح سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنے ان جھوٹے خداؤں کی بندگی پر اڑے رہے اور اصرار کیے چلے گئے کہ ہم اللہ کے بجائے ان ہی کا دامن تھامے رہیں گے۔ اب بتاؤ ان مشرک قوموں پر جب ان کی گمراہی کی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا تو ان کے وہ فریاد رس اور مشکل کشا معبود کہاں مر رہے تھے ؟ کیوں نہ اس برے وقت میں وہ ان کی دست گیری کو آئے۔