Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 29

  1. وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ﴿29﴾

    1. وَاِذْاور جب
    2. صَرَفْنَآہم پھیر لائے
    3. اِلَيْكَآپ کی طرف
    4. نَفَرًاایک جماعت
    5. مِّنَ الْجِنِّجنات کی
    6. يَسْتَمِعُوْنَوہ سنتے تھے
    7. الْقُرْاٰنَ ۚقرآن
    8. فَلَمَّاپس جب
    9. حَضَرُوْهُوہ حاضر ہوئے ان کے پاس
    10. قَالُوْٓاانہوں نے کہا
    11. اَنْصِتُوْا ۚچپ رہو
    12. فَلَمَّاپھر جب
    13. قُضِيَ(پڑھنا) تمام ہوا
    14. وَلَّوْاوہ لوٹے
    15. اِلٰى قَوْمِهِمْاپنی قوم کی طرف
    16. مُّنْذِرِيْنَڈر سناتے ہوئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
(اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے)جب ہم جِنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سُنیں۔33 جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے)تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاوٴ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا  تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 33 اس آیت کی تفسیر میں جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرات حسن بصری، سعید بن حبیر، زر بن حبیش، مجاہد، عکرمہ اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا واقعہ، جس کا اس آیت میں ذکر ہے، بطن نخلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ابن اسحاق، ابو نعیم اصفہانی اور واقدی کا بیان ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی ﷺ طائف سے مایوس ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس ہوئے تھے۔ راستہ میں آپ نے نخلہ میں قیام کیا۔ وہاں عشاء یا فجر یا تہجد کی نماز میں آپ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرأت سننے کے لیے ٹھہر گیا۔ اس کے ساتھ تمام روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس موقع پر جن حضور کے سامنے نہیں تھے، نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس فرمایا تھا بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی۔ یہ مقام جہاں یہ واقعہ پیش آیا، یا تو الزیمہ تھا، یا اسیل الکبیر، کیونکہ یہ دونوں مقام وادی نخلہ میں واقع ہیں، دونوں جگہ پانی اور سرسبزی موجود ہے اور طائف سے آنے والوں کو اگر اس وادی میں پڑاؤ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ ان ہی دونوں میں سے کسی جگہ ٹھہر سکتے ہیں۔