Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 10

  1. اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا﴿10﴾

    1. اَفَلَمْکیا نہیں
    2. يَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے
    3. فِي الْاَرْضِزمین میں
    4. فَيَنْظُرُوْاتو وہ دیکھ لیتے
    5. كَيْفَ كَانَکیسا ہوا
    6. عَاقِبَةُانجام
    7. الَّذِيْنَان لوگوں کا جو
    8. مِنْ قَبْلِهِمْ ۭان سے پہلے
    9. دَمَّرَ اللّٰهُتباہی ڈالدی اللہ نے
    10. عَلَيْهِمْ ۡان پر
    11. وَلِلْكٰفِرِيْنَاور کافروں کے لئے
    12. اَمْثَالُهَاان کے مانند
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھےکہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ اللہ نے ان کا سب کچھ ان پر الٹ دیا، اور ایسے ہی نتائج ان کافروں کے لیے مقدر ہیں۔15
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 15 اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جس تباہی سے وہ کافر دوچار ہوئے ویسی ہی تباہی اب ان کافروں کے لیے مقدر ہے جو محمد ﷺ کی دعوت کو نہیں مان رہے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی تباہی صرف دنیا کے عذاب پر ختم نہیں ہوگئی ہے بلکہ یہی تباہی ان کے لیے آخرت میں بھی مقدر ہے۔