Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 14

  1. اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ﴿14﴾

    1. اَفَمَنْپس کیا جو
    2. كَانَہے
    3. عَلٰي بَيِّنَةٍروشن (راستہ) پر
    4. مِّنْ رَّبِّهٖاپنے رب سے، کے
    5. كَمَنْاس کی طرح
    6. زُيِّنَآراستہ دکھائے گئے
    7. لَهٗاس کو
    8. سُوْٓءُبُرے
    9. عَمَلِهٖاس کے عمل
    10. وَاتَّبَعُوْٓااور انہوں نے پیروی کی
    11. اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
Translation · Tafheem-ul-Quran
بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ ان لوگوں کی طرح ہو جا ئے جن کے لیے ان کا برا عمل خوشنما  بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیروبن گئے ہیں؟19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 19 یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اور اس کے پیروؤں کو جب خدا کی طرف سے ایک صاف اور سیدھا راستہ مل گیا ہے اور پوری بصیرت کی روشنی میں وہ اس پر قائم ہوچکے ہیں، تو اب وہ ان لوگوں کے ساتھ چل سکیں جو اپنی پرانی جاہلیت کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، جو اپنی ضلالتوں کو ہدایت اور اپنی بدکرداریوں کو خوبی سمجھ رہے ہیں، جو کسی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی خواہشات کی بنا پر یہ فیصلے کرتے ہیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اب تو نہ اس دنیا میں ان دونوں گروہوں کی زندگی ایک جیسی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام یکساں ہوسکتا ہے۔