Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 15

  1. مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ﴿15﴾

    1. مَثَلُمثال (کیفیت)
    2. الْجَنَّةِجنت
    3. الَّتِيْوہ جو
    4. وُعِدَوعدہ کی گئی
    5. الْمُتَّقُوْنَ ۭپرہیزگاروں
    6. فِيْهَآاس میں
    7. اَنْهٰرٌنہریں
    8. مِّنْ مَّآءٍپانی کی
    9. غَيْرِ اٰسِنٍ ۚبدبو نہ کرنے والے
    10. وَاَنْهٰرٌاور نہریں
    11. مِّنْ لَّبَنٍدودھ کی
    12. لَّمْ يَتَغَيَّرْنہ متغیر ہونے والا
    13. طَعْمُهٗ ۚاس کا ذائقہ
    14. وَاَنْهٰرٌاور نہریں
    15. مِّنْ خَمْرٍشراب کی
    16. لَّذَّةٍسراسر لذت
    17. لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬپینے والوں کے لئے
    18. وَاَنْهٰرٌاور نہریں
    19. مِّنْ عَسَلٍشہد کی
    20. مُّصَفًّى ۭمصفی
    21. وَلَهُمْاور انکے لئے
    22. فِيْهَااس میں
    23. مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِہر قسم کے پھل
    24. وَمَغْفِرَةٌاور بخشش
    25. مِّنْ رَّبِّهِمْ ۭان کے رب سے
    26. كَمَنْ هُوَاس کی طرح جو وہ
    27. خَالِدٌہمیشہ رہنے والا
    28. فِي النَّارِآگ میں
    29. وَسُقُوْااور انہیں پلایاجائیگا
    30. مَآءًپانی
    31. حَمِيْمًاگرم
    32. فَقَطَّعَٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا
    33. اَمْعَآءَهُمْان کی انتڑیاں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہ رہی ہوں گی  نِتھرے  ہوئے پانی کی ،20 نہریں بہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا،21 نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے  والوں کے لیے لذیز ہو  گی ،22 نہریں بہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی۔23 اس میں ان کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش۔24 (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے)ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ  رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا  جو ان کی  آنتیں تک  کاٹ دے گا؟
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 20 اصل الفاظ ہیں ماءٍ غیر اٰسنٍ۔ آسِن اس پانی کو کہتے ہیں جس کا مزا اور رنگ بدلا ہوا ہو، یا جس میں کسی طرح کی بو پیدا ہوگئی ہو۔ دنیا میں دریاؤں اور نہروں کے پانی عموما گدلے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ریت، مٹی اور بسا اوقات طرح طرح کی نباتات کے مل جانے سے ان کا رنگ اور مزا بدل جاتا ہے۔ اور کچھ نہ کچھ بو بھی ان میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے جنت کے دریاؤں اور نہروں کے پانی کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ غیر آسن ہوگا۔ یعنی وہ خلاص، صاف ستھرا پانی ہوگا کسی قسم کی آمیزش اس میں ہوگی۔ سورة مُحَمَّد 21 حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ " وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا دودھ نہ ہوگا "۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ دودھ چشموں کی شکل میں زمین سے نکالے گا اور نہروں کی شکل میں سے بہا دے گا۔ ایسا نہ ہوگا کہ جانوروں کے تھنوں سے اس کو نچوڑا جائے اور پھر جنت کی نہروں میں ڈال دیا جائے۔ اس قدرتی دودھ کی تعریف میں بیان کیا گیا ہے کہ " اس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا " یعنی اس کے اندر وہ ذرا سی بساند بھی نہ ہوگی جو جانور کے تھن سے نکلے ہوئے ہر دودھ میں ہوتی ہے۔ سورة مُحَمَّد 22 حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اس شراب کو " انسانوں نے اپنے قدموں سے روند کر نہ نچوڑا ہوگا "۔ یعنی وہ دنیا کی شرابوں کی طرح پھلوں کو سڑا کر اور قدموں سے روند کر کشید کی ہوئی نہ ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی چشموں کی شکل میں پیدا کرے گا اور نہروں کی شکل میں بہا دے گا۔ پھر اس کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ " وہ پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی "، یعنی دنیا کی شرابوں کی طرح وہ تلخ اور بو دار نہ ہوگی جسے کوئی بڑے سے بڑا شراب کا رسیا بھی کچھ نہ کچھ منہ بنائے بغیر نہیں پی سکتا۔ سورة صافات میں اس کی مزید تعریف یہ کی گئی ہے کہ اس کے پینے سے نہ جسم کو کوئی ضرر ہوگا نہ عقل خراب ہوگی (آیت 47) ، اور سورة واقعہ میں فرمایا گیا ہے کہ اس سے نہ دورد سر لاحق ہوگا نہ آدمی بہکے گا (آیت 19)۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ شراب نشہ آور نہ ہوگی بلکہ محض لذت و سرور بخشنے والی ہوگی۔ سورة مُحَمَّد 23 حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ " وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا ہوا شہد نہ ہوگا "۔ یعنی وہ بھی چشموں سے نکلے گا اور نہروں میں بہے گا۔ اسی لیے اس کے اندر موم اور چھتے کے ٹکڑے اور مری ہوئی مکھیوں کی ٹانگیں ملی ہوئی نہ ہوں گی، بلکہ وہ خالص شہد ہوگا۔ سورة مُحَمَّد 24 جنت کی ان نعمتوں کے بعد اللہ کی طرف سے مغفرت کا ذکر کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان ساری نعمتوں سے بڑھ کر یہ نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کو تاہیاں ان سے ہوئی تھیں ان کا ذکر تک جنت میں کبھی ان کے سامنے نہ آئے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیشہ کے لیے پردہ ڈال دے گا تاکہ جنت میں وہ شرمندہ نہ ہوں۔