تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 13
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ﴿13﴾
- وَكَاَيِّنْاور بہت سی
- مِّنْ قَرْيَةٍبستیاں
- هِىَ اَشَدُّوہ بہت ہی سخت
- قُوَّةًقوت میں
- مِّنْ قَرْيَتِكَآپ کی بستی سے
- الَّتِيْٓوہ جس
- اَخْرَجَتْكَ ۚآپ کو نکال دیا
- اَهْلَكْنٰهُمْہم نے ہلاک کردیا انہیں
- فَلَاتو نہ
- نَاصِرَکوئی مدد کرنے والا
- لَهُمْان کے لئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی ؐ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا۔18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 18
رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکلنے کا رنج تھا۔ جب آپ ہجرت پر مجبور ہوئے تو شہر سے باہر نکل کر آپ ﷺ نے اس کی طرف رخ کر کے فرمایا تھا " مکہ، تو دنیا کے تمام شہروں میں خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اور خدا کے تمام شہروں میں مجھے سب سے بڑھ کر تجھ سے محبت ہے۔ اگر مشرکوں نے مجھے نہ نکالا تو میں تجھے چھوڑ کر کبھی نہ نکلتا "۔ اسی پر ارشاد ہوا ہے کہ اہل مکہ تمہیں نکال کر اپنی جگہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ حالانکہ درحقیقت یہ حرکت کر کے انہوں نے اپنی شامت بلائی ہے۔ آیت کا انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ ضرور ہجرت سے متصل ہی نازل ہوئی ہوگی۔