Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 16

  1. وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ﴿16﴾

    1. وَمِنْهُمْاور ان میں سے
    2. مَّنْ يَّسْتَمِعُجو سنتا ہے
    3. اِلَيْكَ ۚآپ کی طرف
    4. حَتّىٰٓیہاں تک کہ
    5. اِذَا خَرَجُوْاجب وہ نکلتے ہیں
    6. مِنْ عِنْدِكَآپ کے پاس سے
    7. قَالُوْاوہ کہتے ہیں
    8. لِلَّذِيْنَان لوگوں کو جنہیں
    9. اُوْتُوا الْعِلْمَعلم دیا گیا (اہل علم)
    10. مَاذَاکیا
    11. قَالَاس نے کہا
    12. اٰنِفًا ۣابھی
    13. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    14. الَّذِيْنَوہ جو
    15. طَبَعَمہر کردی
    16. اللّٰهُاللہ نے
    17. عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
    18. وَاتَّبَعُوْٓااور انہوں نے پیروی کی
    19. اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان میں سے  کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان  لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا ؟25 یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپّہ لگا دیا  ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں۔26
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 25 یہ ان کفار و منافقین اور منکرین اہل کتاب کا ذکر ہے جو نبی ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھتے تھے اور آپ کے ارشادات، یا قرآن مجید کی آیات سنتے تھے، مگر چونکہ ان کا دل ان مضامین سے دور تھا جو آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوتے تھے، اس لیے سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہ سنتے تھے اور باہر نکل کر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی ابھی آپ ﷺ کیا فرما رہے تھے۔ سورة مُحَمَّد 26 یہ تھا وہ اصل سبب جس کی وجہ سے ان کے دل کے کان نبی ﷺ کے ارشادات کے لیے بہرے ہوگئے تھے۔ وہ اپنی خواہشات کے بندے تھے، اور حضور ﷺ جو تعلیمات پیش فرما رہے تھے وہ ان کی خواہشات کے خلاف تھیں، اس لیے اگر وہ کبھی آپ کی مجلس میں آ کر بتکلف آپ کی طرف کان لگاتے بھی تھے تو ان کے پلے کچھ نہ پڑتا تھا۔