تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 19
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ع﴿19﴾
- فَاعْلَمْسو جان لو
- اَنَّهٗیہ کہ
- لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
- اِلَّا اللّٰهُاللہ کے سوا
- وَاسْتَغْفِرْاور بخشش مانگیں آپ
- لِذَنْۢبِكَاپنے ذنب (اپنے اوپر لگائے گئے الزام) کیلئے
- وَلِلْمُؤْمِنِيْنَاور مومن مردوں کیلئے
- وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭاور مومن عورتوں
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَعْلَمُجانتا ہے
- مُتَقَلَّبَكُمْتمہارا چلنا پھرنا
- وَمَثْوٰىكُمْاور تمہارے رہنے سہنے کا مقام
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کےسوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔31 اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 31
اسلام نے جو اخلاق انسان کو سکھائے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی و عبادت بجا لانے میں، اور اسے دین کی خاطر جان لڑانے میں، خواہ اپنی ہی کوشش کرتا رہا ہو، اس کو کبھی اس زعم میں مبتلا نہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا وہ میں نے کردیا ہے، بلکہ اسے ہمیشہ یہی سمجھتے رہنا چاہیے کہ میرے مالک کا مجھ پر جو حق تھا وہ میں ادا نہیں کرسکا ہوں، اور ہر وقت اپنے قصور کا اعتراف کر کے اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ تیری خدمت میں جو کچھ بھی کوتاہی مجھ سے ہوئی ہے اس سے درگزر فرما۔ یہی اصل روح ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی کہ " اے نبی ﷺ اپنے قصور کی معافی مانگو "۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذاللہ، نبی ﷺ نے فی الواقع جان بوجھ کر کوئی قصور کیا تھا۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمام بندگان خدا سے بڑھ کر جو بندہ اپنے رب کی بندگی بجا لانے والا تھا، اس کا منصب بھی یہ نہ تھا کہ اپنے کار نامے کے فخر کا کوئی شائبہ تک اس کے دل میں راہ پائے، بلکہ اس کا مقام بھی یہ تھا کہ اپنے ساری عظیم القدر خدمات کے باوجود اپنے رب کے حضور اعتراف قصور ہی کرتا رہے۔ اسی کیفیت کا اثر تھا جس کے تحت رسول اللہ ﷺ ہمیشہ بکثرت استغفار فرماتے رہتے تھے۔ ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد کی روایت میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہوا ہے کہ " میں ہر روز سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں "۔