Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 18

  1. فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ﴿18﴾

    1. فَهَلْپس نہیں وہ
    2. يَنْظُرُوْنَمنتظر
    3. اِلَّا السَّاعَةَمگر قیامت
    4. اَنْ تَاْتِيَهُمْکہ آجائے ان پر
    5. بَغْتَةً ۚاچانک
    6. فَقَدْ جَآءَسو آچکی ہیں
    7. اَشْرَاطُهَا ۚاسکی علامات
    8. فَاَنّٰى لَهُمْتو کہاں ان کیلئے، کو
    9. اِذَاجب
    10. جَآءَتْهُمْوہ آگئی ان کے پاس
    11. ذِكْرٰىهُمْان کا نصیحت (قبول کرنا)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے؟29 اس کی علامات تو آچکی ہیں۔30 جب وہ خود آجائے گی تو ان کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 29 یعنی جہاں تک حق واضح کرنے کا تعلق ہے وہ تو دلائل سے، قرآن کے معجزانہ بیان سے محمد ﷺ کی سیرت پاک سے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگیوں کے انقلاب سے، انتہائی روشن طریقے پر واضح کیا جا چکا ہے۔ اب ایمان لانے کے لیے یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہو ؟ سورة مُحَمَّد 30 قیامت کی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی آمد کا وقت اب قریب آ لگا ہے ان میں سے ایک اہم علامت خدا کے آخری نبی کا آجانا ہے جس کے بعد پھر قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں حضرت انس، حضرت سہل بن سعد ساعدی، اور حضرت بریدہ ؓ کی روایات منقول ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کھڑی کر کے فرمایا بُعثت انا و السّاعۃ کھَاتین۔ " میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں "۔ یعنی جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں ہے، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی بھی مبعوث ہونے والا نہیں ہے۔ میرے بعد اب بس قیامت ہی آنے والی ہے۔