Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 20

  1. وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ﴿20﴾

    1. وَيَقُوْلُاور وہ کہتے ہیں
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    3. اٰمَنُوْاایمان لائے
    4. لَوْلَا نُزِّلَتْکیوں نہ اتاری گئی
    5. سُوْرَةٌ ۚایک سورة
    6. فَاِذَآسو جب
    7. اُنْزِلَتْاتاری جاتی ہے
    8. سُوْرَةٌسورة
    9. مُّحْكَمَةٌصاف صاف معانی والی
    10. وَّذُكِرَاور ذکر کیا جاتا ہے
    11. فِيْهَااس میں
    12. الْقِتَالُ ۙجنگ
    13. رَاَيْتَ الَّذِيْنَتم دیکھوگے وہ لوگ
    14. فِيْ قُلُوْبِهِمْان کے دلوں میں
    15. مَّرَضٌبیماری
    16. يَّنْظُرُوْنَوہ دیکھتے ہیں
    17. اِلَيْكَآپ کی طرف
    18. نَظَرَدیکھنا
    19. الْمَغْشِيِّبیہوشی طاری ہوگئی
    20. عَلَيْهِاس پر
    21. مِنَ الْمَوْتِ ۭموت کی
    22. فَاَوْلٰىسو خرابی
    23. لَهُمْان کے لئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے  تھے  کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی(جس میں جنگ کو حکم دیا جائے)۔ مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری  طرف اس طرح دیکھ  رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھاگئ ہو۔32 افسوس ان کے حال پر
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 32 مطلب یہ ہے کہ جن حالات سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے اور کفار کا جو رویہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ تھا، اس کی بنا پر جنگ کا حکم آنے سے پہلے ہی اہل ایمان کی عام رائے یہ تھی کہ اب ہمیں جنگ کی اجازت مل جانی چاہیے۔ بلکہ وہ بےچینی کے ساتھ اللہ کے فرمان کا انتظار کر رہے تھے اور بار بار پوچھتے تھے کہ ہمیں ان ظالموں سے لڑنے کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا ؟ مگر جو لوگ منافقت کے ساتھ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے تھے ان کا حال مومنوں کے حال سے بالکل مختلف تھا۔ وہ اپنی جان و مال کو خدا اور اس کے دین سے عزیز تر رکھتے تھے اور اس کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھے۔ جنگ کے حکم نے آتے ہی ان کو اور سچے اہل ایمان کو ایک دوسرے سے چھانٹ کر الگ کردیا۔ جب تک یہ حکم نہ آیا تھا، ان میں اور عام اہل ایمان میں بظاہر کوئی فرق و امتیاز نہ پایا جاتا تھا۔ نماز وہ بھی پڑھتے تھے اور یہ بھی۔ روزے رکھنے میں بھی انہیں تامل نہ تھا۔ ٹھنڈا ٹھنڈا اسلام انہیں قبول تھا۔ مگر جب اسلام کے لیے جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو ان کے نفاق کا حال کھل گیا اور نمائشی ایمان کا وہ لبادہ اتر گیا جو انہوں نے اوپر سے اوڑھ رکھا تھا۔ سورة نساء میں ان کی اس کیفیت کو یوں بیان کی گیا ہے " تم نے دیکھا ان لوگوں کو جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا حال یہ ہے کہ انسانوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جیسے خدا سے ڈرنا چاہیے۔ بلکہ کچھ اس سے بھی زیادہ۔ کہتے ہیں، خدایا، یہ لڑائی کا حکم ہمیں کیوں دے دیا ؟ ہمیں ابھی اور کچھ مہلت کیوں نہ دی ؟ " (آیت 77)۔