Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 48. Al-Fath · Ayah 22

  1. وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا﴿22﴾

    1. وَلَوْ قٰتَلَكُمُاور اگر تم سے لڑتے
    2. الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
    3. كَفَرُوْاکفر کیا (کافر)
    4. لَوَلَّوُاالبتہ وہ پھیرتے
    5. الْاَدْبَارَپیٹھ (جمع)
    6. ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَپھر وہ نہ پاتے
    7. وَلِيًّاکوئی دوست
    8. وَّلَا نَصِيْرًااور نہ کوئی مددگار
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ کافر لوگ اگر اس وقت تم سے لڑگئے ہو تے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مدد گار نہ پاتے۔41
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَتْح 41 یعنی حدیبیہ میں جنگ کو اللہ نے اس لیے نہیں روکا کہ وہاں تمہارے شکست کھا جانے کا امکان تھا، بلکہ اس کی مصلحت کچھ دوسری تھی جسے آگے کی آیتوں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ مصلحت مانع نہ ہوتی، اور اللہ تعالیٰ اس مقام پر جنگ ہوجانے دیتا تو یقیناً کفار ہی کو شکست ہوتی اور مکہ معظمہ اسی وقت فتح ہوجاتا۔