تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 49. Al-Hujuraat · Ayah 3
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴿3﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک جو لوگ
- يَغُضُّوْنَپست رکھتے ہیں
- اَصْوَاتَهُمْاپنی آوازیں
- عِنْدَنزدیک
- رَسُوْلِ اللّٰهِاللہ کا رسول
- اُولٰٓئِكَیہ وہ لوگ
- الَّذِيْنَجو، جن
- امْتَحَنَ اللّٰهُآزمایا ہے اللہ نے
- قُلُوْبَهُمْان کے دل
- لِلتَّقْوٰى ۭپرہیزگاری کیلئے
- لَهُمْ مَّغْفِرَةٌان کیلئے مغفرت
- وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌاور اجر عظیم
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو لوگ رسولِ خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوٰی کے لیے جانچ لیا ہے،5 ان کے لیے مغفرت ہے اور اجرِعظیم
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحُجُرٰت 5
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورے اترے ہیں اور ان آزمائشوں سے گزر کر جنہوں نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے دلوں میں فی الواقع تقویٰ موجود ہے وہی لوگ اللہ کے رسول کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس ارشاد سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو دل رسول ﷺ کے احترام سے خالی ہے وہ درحقیقت تقویٰ سے خالی ہے، اور رسول کے مقابلے میں کسی کی آواز کا بلند ہونا محض ایک ظاہری بد تہذیبی نہیں ہے۔ بلکہ باطن میں تقویٰ نہ ہونے کی علامت ہے۔