تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 27
قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿27﴾
- قَالَ قَرِيْنُهٗکہے گا اس کا ہم نشین
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- مَآ اَطْغَيْتُهٗمیں نے اسے سرکش نہیں بنایا
- وَلٰكِنْاور لیکن وہ
- كَانَتھا
- فِيْ ضَلٰلٍۢگمراہی میں
- بَعِيْدٍپرلے درجے کی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس کے ساتھی نے عرض کیا ”خداوند ، میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔“34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 34
یہاں فحوائے کلام خود بتارہا ہے کہ " ساتھی " سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور یہ بات بھی انداز بیان ہی سے مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص اور اس کا شیطان، دونوں خدا کی عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور، یہ ظالم میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اسی نے آخر کار مجھے گمراہ کر کے چھوڑا، اس لیے سزا اس کو ملنی چاہیے۔ اور شیطان جواب میں کہتا ہے کہ سردار، میرا اس پر کوئی زور تو نہیں تھا کہ یہ سرکش نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے زبردستی اس کو سرکش بنادیا ہو۔ یہ کم بخت تو خود نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لیے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی اور میری ترغیبات پر پھسلتا چلا گیا۔