Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 40

  1. وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ﴿40﴾

    1. وَمِنَ الَّيْلِاور رات میں
    2. فَسَبِّحْهُپس اس کی پاکیزگی بیان کرو
    3. وَاَدْبَارَاور بعد
    4. السُّجُوْدِسجدوں (نماز)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ  ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی۔51
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 51 یہ ہے وہ ذریعہ جس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں اسے خواہ کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے، اور اس کی کوششوں کا خواہ کوئی ثمرہ بھی حاصل ہوتا نظر نہ آئے، پھر بھی وہ پورے عزم کے ساتھ زندگی بھر کلمۂ حق بلند کرنے اور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کی سعی جاری رکھے۔ رب کی حمد اور اس کی تسبیح سے مراد یہاں نماز ہے اور جس مقام پر بھی قرآن میں حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے۔ " طلوع آفتاب سے پہلے۔ " فجر کی نماز ہے " غروب آفتاب سے پہلے ‘’ دو نمازیں ہیں، ایک ظہر، دوسری عصر "۔ رات کے وقت۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور تیسری تہجد بھی رات کی تسبیح میں شامل ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، بنی اسرائیل، حواشی 91 تا 97۔ جلد سوم، طہٰ ، حاشیہ 111۔ الروم، حواشی 23۔ 24)۔ رہی وہ تسبیح جو " سجدے سے فارغ ہونے کے بعد " کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، تو اس سے مراد ذکر بعد الصلوٰۃ بھی ہوسکتا ہے اور فرض کے بعد نفل ادا کرنا بھی۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت حسن بن علی، حضرات ابوہریرہ، ابن عباس، شُیبی، مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، قتادہ، ابراہیم نخعی اور اوزاعی اس سے مراد نماز مغرب کے بعد کی دو رکعتیں لیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ایک روایت کے بموجب حضرت عبداللہ بن عباس کا بھی یہ خیال ہے کہ اس سے مراد ذکر بعد الصلوٰۃ ہے۔ اور ابن زید کہتے ہیں کہ اس ارشاد کا مقصود یہ ہے کہ فرائض کے بعد بھی نوافل ادا کے جائیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ غریب مہاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مالدار لوگ تو بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا " کیا ہوا " ؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، مگر وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " کیا میں تمہیں ایسی چیز بتاؤں جسے اگر تم کرو تو تم دوسرے لوگوں سے بازی لے جاؤ گے بجز ان کے جو وہی عمل کریں جو تم کرو گے ؟ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد 33۔ 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر کہا کرو "۔ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی یہ بات سن لی ہے اور وہ بھی یہی عمل کرنے لگے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء۔ ایک روایت میں ان کلمات کی تعداد 33۔ 33 کے بجائے دس دس بھی منقول ہوئی ہے۔ حضرت زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ہدایت فرمائی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد 33۔ 33 مرتبہ سبحان اللہ اور الحمد للہ کہا کریں اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ بعد میں ایک انصاری نے عرض کیا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی کہتا ہے اگر تم 25۔ 25 مرتبہ یہ تین کلمے کہو اور پھر 25 مرتبہ لا اِلٰہ الا اللہ کہو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اچھا اسی طرح کیا کرو۔ (احمد۔ نسائی۔ دارمی)۔ حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر جب پلٹتے تھے تو میں نے آپ کو یہ الفاظ کہتے سنا ہے سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزِّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ (احکام القرآن للجصاص)۔ اس کے علاوہ بھی ذکر بعد الصلوٰۃ کی متعدد صورتیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوئی ہیں۔ جو حضرات قرآن مجید کی اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیں وہ مشکوٰۃ، باب الذکر بعد الصلوٰۃ میں سے کوئی ذکر جو ان کے دل کو سب سے زیادہ لگے، چھانٹ کر یاد کرلیں اور اس کا التزام کریں۔ رسول اللہ ﷺ کے اپنے بتائے ہوئے ذکر سے بہتر اور کونسا ذکر ہوسکتا ہے۔ مگر یہ خیال رکھیں کہ ذکر سے اصل مقصود چند مخصوص الفاظ کو زبان سے گزار دینا نہیں ہے بلکہ ان معانی کو ذہن میں تازہ اور مستحکم کرنا ہے جو ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس لیے جو ذکر بھی کیا جائے اس کے معنی اچھی طرح سمجھ لینے چاہییں اور پھر معنی کے استحضار کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔