تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 39
فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ﴿39﴾
- فَاصْبِرْپس صبر کرو
- عَلٰيپر
- مَا يَقُوْلُوْنَجو وہ کہتے ہیں
- وَسَبِّحْاور پاکیزگی بیان کرو
- بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
- رَبِّكَاپنے رب کی
- قَبْلَقبل
- طُلُوْعِطلوع
- الشَّمْسِسورج کا
- وَقَبْلَاور قبل
- الْغُرُوْبِغروب ہونے سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو،50 اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 50
یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈالی ہے اس کو بنا کر ہم تھک نہیں گئے ہیں کہ اس کی تعمیر تو کرنا ہمارے بس میں نہ رہا ہو۔ اب اگر یہ نادان لوگ تم سے زندگی بعد موت کی خبر سن کو تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو۔ ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر تم مامور کیے گئے ہو اسے بیان کرتے چلے جاؤ۔
اس آیت میں ضمناً ایک لطیف طنز یہود و نصاریٰ پر بھی ہے جن کی بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا (پیدائش 2 2) اگرچہ اب مسیحی پادری اس بات سے شرمانے لگے ہیں اور انہوں نے کتاب مقدس کے اردو ترجمے میں آرام کیا کو " فارغ ہوا " سے بدل دیا ہے۔ مگر کنگ جیمز کی مستند انگریزی بائیبل میں (And Herested on theseventh day) کے الفاظ صاف موجود ہیں۔ اور یہی الفاظ اس ترجمے میں بھی پائے جاتے ہیں جو 1954 میں یہودیوں نے فلیڈلفیا سے شائع کیا ہے۔ عربی ترجمہ میں بھی فاستراح فی الیوم السَّابع کے الفاظ ہیں۔