تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 22
Tafseerوَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ﴿22﴾
- وَفِي السَّمَآءِاور آسمانوں میں
- رِزْقُكُمْتمہارا رزق ہے
- وَمَا تُوْعَدُوْنَاور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کاتم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ 20
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الذّٰرِیٰت 20
آسمان سے مراد یہاں عالم بالا ہے۔ رزق سے مراد وہ سب کچھ جو دنیا میں انسان کو جینے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور مَا تُوْعَدُوْنَ سے مراد قیامت، حشر و نشر، محاسبہ و باز پرس، جزا و سزا، اور جنت و دوزخ ہیں جن کے رونما رہنے کا وعدہ تمام کتب آسمانی میں اور اس قرآن میں کیا جاتا رہا ہے۔ ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا ہی سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ تم میں سے کس کو کیا کچھ دنیا میں دیا جائے، اور وہیں سے یہ فیصلہ بھی ہونا ہے کہ تمہیں باز پرس اور جزائے اعمال کے لیے کب بلایا جائے۔