تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 47
Tafseerوَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ﴿47﴾
- وَالسَّمَآءَاور آسمان
- بَنَيْنٰهَابنایا ہم نے اس کو
- بِاَيْىدٍاپنی قوت۔ ہاتھ سے
- وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَاور بیشک ہم البتہ وسعت دینے والے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
43 آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ 44
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الذّٰرِیٰت 43
آخرت کے حق میں تاریخی دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر اسی کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔
سورة الذّٰرِیٰت 44
اصل الفاظ ہیں وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۔ موسع کے معنی طاقت و مقدرت رکھنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں اور وسیع کرنے والے کے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان ہم نے کسی کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے زور سے بنایا ہے اور اس کی تخلیق ہماری مقدرت سے باہر نہ تھی۔ پھر یہ تصور تم لوگوں کے دماغ میں آخر کیسے آ گیا کہ ہم تمہیں دو بارہ پیدا نہ کر سیکیں گے ؟ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم بس ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ مسلسل اس میں توسیع کر رہے ہیں اور ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہو رہے ہیں۔ ایسی زبردست خلاق ہستی کو آخر تم نے اعادہ خلق سے عاجز کیوں سمجھ رکھا ہے ؟