تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 10
اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿10﴾
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- النَّجْوٰىسرگوشی
- مِنَسے
- الشَّيْطٰنِشیطان
- لِيَحْزُنَتاکہ وہ غمگین کرے
- الَّذِيْنَان لوگوں کو جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَلَيْسَاور نہیں
- بِضَآرِّهِمْوہ ان کا بگاڑ سکتا
- شَيْئًاکچھ
- اِلَّابغیر
- بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭاللہ کے حکم سے
- وَعَلَي اللّٰهِاور اللہ پر
- فَلْيَتَوَكَّلِتو بھروسہ کرنا چاہیے
- الْمُؤْمِنُوْنَمومن (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذنِ خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی،اور مومنوں کو اللہ ہی بھروسہ رکھنا چاہیے۔ 25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُجَادِلَة 25
یہ بات اس لیے فرمائی گئی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو کچھ لوگوں کی سرگوشیاں دیکھ کر یہ شبہ بھی ہوجائے کہ وہ اسی کے خلاف کی جا رہی ہیں، تب بھی اسے اتنا رنجیدہ نہ ہونا چاہیے کہ محض شبہ ہی شبہ پر کوئی جوابی کارروائی کرنے کی فکر میں پڑجائے، یا اپنے دل میں اس پر کوئی غم، یا کینہ، یا غیر معمولی پریشانی پرورش کرنے لگے۔ اس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ اعتماد اس کے قلب میں ایسی قوت پیدا کر دے گا کہ بہت سے فضول اندیشوں اور خیالی خطروں سے اس کو نجات مل جائے گی اور وہ اشرار کو ان کے حال پر چھوڑ کر پورے اطمینان و سکون کو غارت کر دے، نہ کم ظرف ہوتا ہے کہ غلط کار لوگوں کے مقابلے میں آپے سے باہر ہو کر خود بھی خلاف انصاف حرکتیں کرنے لگے۔