تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 11
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿11﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓامومنو
- اِذَا قِيْلَجب کہاجائے
- لَكُمْتمہیں
- تَفَسَّحُوْاتم کھل کر بیٹھو
- فِي الْمَجٰلِسِمجلسوں میں
- فَافْسَحُوْاتو تم کھل کر بیٹھ جایا کرو
- يَفْسَحِکشادگی بخشے گا
- اللّٰهُاللہ
- لَكُمْ ۚتمہیں
- وَاِذَا قِيْلَاور جب کہا جائے
- انْشُزُوْاتم اٹھ کھڑے ہو
- فَانْشُزُوْاتو اٹھ جایا کرو
- يَرْفَعِ اللّٰهُبلند کردے گا اللہ
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- مِنْكُمْ ۙتم میں سے
- وَالَّذِيْنَاور جن لوگوں کو
- اُوْتُوا الْعِلْمَعلم عطا کیا گیا
- دَرَجٰتٍ ۭدرجے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَااس سے جو کچھ
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- خَبِيْرٌباخبر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، 26 اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔ 27 تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والےہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا، 28 اور جو کچھ تم کرتے ہواللہ کو اس کی خبر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُجَادِلَة 26
اس کی تشریح سورة کے دیباچے میں کی جاچکی ہے۔ بعض مفسرین نے اس حکم کو صرف نبی ﷺ کی مجلس تک محدود سمجھا ہے۔ لیکن جیسا کہ امام مالک نے فرمایا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی تمام مجلسوں کے لیے یہ ایک عام ہدایت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول نے اہل اسلام کو جو آداب سکھائے ہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جب کسی مجلس میں پہلے سے کچھ لوگ بیٹھے ہوں اور بعد میں مزید کچھ لوگ آئیں، تو یہ تہذیب پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں میں ہونی چاہیے کہ وہ خود نئے آنے والوں کو جگہ دیں اور حتیٰ الامکان کچھ سکڑ اور سمٹ کر ان کے لیے کشادگی پیدا کریں، اور اتنی شائستگی بعد کے آنے والوں میں ہونی چاہیے کہ وہ زبردستی ان کے اندر نہ گھسیں اور کوئی شخص کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی کوشش نہ کرے۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لایقیم الرجل الرجل من مجلسہ فیجلس فیہ و لکن تفسحوا وتوسعوا۔ " کوئی شخص کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم لوگ خود دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرو "۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم)۔ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا لا یحل لرجل ان یفرق بین اثنین الا باذنہما۔ " کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر دھس جائے " (مسند احمد، ابو داؤد، ترمصی)۔
سورة الْمُجَادِلَة 27
عبدالرحمان بن زید بن اسلم کا بیان ہے کہ لوگ نبی ﷺ کی مجلس میں دیر تک بیٹھے رہتے تھے اور ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ آخر وقت تک بیٹھے رہیں۔ اس سے بسا اوقات حضور کو تکلیف ہوتی تھی، آپ کے آرام میں بھی خلل پڑتا تھا اور آپ کے کاموں کا بھی حرج ہوتا تھا۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ جب تم لوگوں سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جاؤ (ابن جریر و ابن کثیر)۔
سورة الْمُجَادِلَة 28
یعنی یہ نہ سمجھو کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں دوسروں کو جگہ دینے کی خاطر اگر تم آپ سے کچھ دور جا بیٹھے تو تمہارا درجہ گرگیا ، یا اگر مجلس برخاست کر کے تمہیں اٹھ جانے کے لیے کہا گیا تو تمہاری کچھ ذلت ہوگئی۔ رفع درجات کا اصل ذریعہ ایمان اور علم ہے نہ یہ کہ کس کو مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا، اور کون زیادہ دیر تک آپ کے پاس بیٹھا۔ کوئی شخص اگر آپ کے قریب بیٹھ گیا ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اسے بڑا مرتبہ مل گیا۔ بڑا مرتبہ تو اسی کا رہے گا جس نے ایمان اور علم کی دولت زیادہ پائی ہے۔ اسی طرح کسی شخص نے اگر زیادہ دیر تک بیٹھ کر اللہ کے رسول کو تکلیف دی تو اس نے الٹا جہالت کا کام کیا۔ اس کے درجے میں محض یہ بات کوئی اضافہ نہ کر دے گی کہ اسے دیر تک آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملا۔ اس سے بدرجہا زیادہ بلند مرتبہ اللہ کے ہاں اس کا ہے جس نے آپ کی صحبت سے ایمان اور علم کا سرمایہ حاصل کیا اور وہ اخلاق سیکھے جو ایک مومن میں ہونے چاہییں۔