Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 12

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اٰمَنُوْٓامومن
    4. اِذَاجب
    5. نَاجَيْتُمُتم کان میں بات کرو
    6. الرَّسُوْلَرسول
    7. فَقَدِّمُوْاتو تم دے دو
    8. بَيْنَ يَدَيْپہلے
    9. نَجْوٰىكُمْاپنے سرگوشی
    10. صَدَقَةً ۭکچھ صدقہ
    11. ذٰلِكَیہ
    12. خَيْرٌ لَّكُمْبہتر تمہارے لئے
    13. وَاَطْهَرُ ۭاور زیادہ پاکیزہ
    14. فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْاپھر اگر تم نہ پاؤ
    15. فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
    16. غَفُوْرٌبخشنے والا
    17. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو۔ 29 یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفورورحیم ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُجَادِلَة 29 حضرت عبداللہ بن عباس اس حکم کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ باتیں (یعنی تخلیہ کی درخواست کر کے) پوچھنے لگے تھے حتیٰ کہ انہوں نے حضور کو تنگ کردیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے نبی پر سے یہ بوجھ ہلکا کر دے (ابن جریر)۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ نبی ﷺ سے جو شخص بھی علیٰحدگی میں بات کرنے کی درخواست کرتا، آپ اسے رد نہ فرماتے تھے۔ جس کا جی چاہتا آ کر عرض کرتا کہ میں ذرا الگ بات کرنا چاہتا ہوں، اور آپ اسے موقع دے دیتے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ ایسے معاملات میں بھی آپ کو تکلیف دینے لگے جن میں الگ بات کرنے کی کوئی حاجت نہ ہوتی۔ زمانہ وہ تھا جس میں سارا عرب مدینہ کے خلاف برسر جنگ تھا۔ بعض اوقات کسی شخص کی اس طرح کی سرگوشی کے بعد شیطان لوگوں کے کان میں یہ پھونک دیتا تھا کہ یہ فلاں قبیلے کے حملہ آور ہونے کی خبر لایا تھا اور اس سے مدینہ میں افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا تھا۔ دوسری طرف لوگوں کی اس حرکت کی وجہ سے منافقین کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا تھا کہ محمد ﷺ تو کانوں کے کچے ہیں، ہر ایک کی سن لیتے ہیں۔ ان وجوہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگا دی کہ جو آپ سے خلوت میں بات کرنا چاہے وہ پہلے صدقہ دے (احکام القرآن الابن العربی)۔ قتادہ کہتے ہیں کہ دوسروں پر اپنی بڑائی جتانے کے لیے بھی بعض لوگ حضور سے خلوت میں بات کرتے تھے۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم آیا تو حضور نے مجھ سے پوچھا کتنا صدقہ مقرر کیا جائے ؟ کیا ایک دینار ؟ میں نے عرض کیا یہ لوگوں کی مقدرت سے زیادہ ہے۔ آپ نے فرمایا نصف دینار ؟ میں نے عرض کیا لوگ اس کی مقدرت بھی نہیں رکھتے۔ فرمایا پھر کتنا ؟ میں نے عرض کیا بس ایک جَو برابر سونا۔ فرمایا انک لزھید، یعنی تم نے تو بڑی کم مقدار کا مشورہ دیا (ابن جریر، ترمذی، مسند ابو یعلیٰ)۔ ایک دوسری روایت میں حضرت علی فرماتے ہیں قرآن کی یہ ایک ایسی آیت ہے جس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا۔ اس حکم کے آتے ہی میں نے صدقہ پیش کیا اور ایک مسئلہ آپ سے پوچھ لیا۔ (ابن جریر، حاکم، ابنالمنذر، عبد بن حمید)۔