Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 128

  1. وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ﴿128﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. يَحْشُرُهُمْوہ جمع کرے گا
    3. جَمِيْعًاسب
    4. يٰمَعْشَرَالْجِنِّاے جنات کے گروہ
    5. قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْتم نے بہت گھیر لیے (اپنے تابع کرلیے)
    6. مِّنَسے
    7. الْاِنْسِانسان۔ آدمی
    8. وَقَالَاور کہیں گے
    9. اَوْلِيٰٓؤُهُمْان کے دوست
    10. مِّنَسے
    11. الْاِنْسِانسان
    12. رَبَّنَااے ہمارے رب
    13. اسْتَمْتَعَہم نے فائدہ اٹھایا
    14. بَعْضُنَاہمارے بعض
    15. بِبَعْضٍبعض سے
    16. وَّبَلَغْنَآاور ہم پہنچے
    17. اَجَلَنَامیعاد
    18. الَّذِيْٓجو
    19. اَجَّلْتَتونے مقرر کی تھی
    20. لَنَاہمارے لیے
    21. قَالَفرمائے گا
    22. النَّارُآگ
    23. مَثْوٰىكُمْتمہارا ٹھکانہ
    24. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہو گے
    25. فِيْهَآاس میں
    26. اِلَّامگر
    27. مَاجسے
    28. شَآءَ اللّٰهُاللہ چاہے
    29. اِنَّبیشک
    30. رَبَّكَتمہارا رب
    31. حَكِيْمٌحکمت والا
    32. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جِنوں 94سے خطاب کرکے فرمائے گا کہ ”اے گروہِ جِن! تم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا“۔ انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ”پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دُوسرے کو خوب استعمال کیا ہے،95 اور اب ہم اُس وقت پر آپہنچے ہیں جو تُونے ہمارے لیے مقرر کردیا تھا“۔ اللہ فرمائے گا ”اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہوگے“۔ اُس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بیشک تمہارا رب دانا اور علیم ہے۔96
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 94 یہاں جنوں سے مراد شیاطین جن ہیں۔ سورة الْاَنْعَام 95 یعنی ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں، ہر ایک دوسرے کو فریب میں مبتلا کر کے اپنی خواہشات پوری کرتا رہا ہے۔ سورة الْاَنْعَام 96 یعنی اگرچہ اللہ کو اختیار ہے کہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے، مگر یہ سزا اور معافی بلاوجہ معقول، مجرد خواہش کی بنا پر نہیں ہوگی، بلکہ علم اور حکمت پر مبنی ہوگی۔ خدا معاف اسی مجرم کو کرے گا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ خود اپنے جرم کا ذمہ دار نہیں ہے اور جس کے متعلق اس کی حکمت یہ فیصلہ کرے گی کہ اسے سزا نہ دی جانی چاہیے۔