تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 159
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ﴿159﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
- فَرَّقُوْاتفرقہ ڈالا
- دِيْنَهُمْاپنا دین
- وَكَانُوْااور ہوگئے
- شِيَعًاگروہ در گروہ
- لَّسْتَنہیں آپ
- مِنْهُمْان سے
- فِيْ شَيْءٍکسی چیز میں (کوئی تعلق)
- اِنَّمَآفقط
- اَمْرُهُمْان کا معاملہ
- اِلَى اللّٰهِاللہ کے حوالے
- ثُمَّپھر
- يُنَبِّئُهُمْوہ جتلا دے گا انہیں
- بِمَاوہ جو
- كَانُوْا يَفْعَلُوْنَکرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں،141 ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 141
خطاب نبی ﷺ سے ہے، اور آپ کے واسطہ سے دین حق کے تمام پیرو اس کے مخاطب ہیں۔ ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور اب بھی یہی ہے کہ ایک خدا کو الٰہ اور رب مانا جائے۔ اللہ کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے آخرت پر ایمان لایا جائے، اور ان وسیع اصول و کلیات کے مطابق زندگی بسر کی جائے جن کی تعلیم اللہ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ سے دی ہے۔ یہی دین تمام انسانوں کو اول یوم پیدائش سے دیا گیا تھا۔ بعد میں جتنے مختلف مذاہب بنے وہ سب کے سب اس طرح بنے کہ مختلف زمانوں کے لیے لوگوں نے اپنے ذہن کی غلط اُپَچ سے، یا خواہشات نفس کے غلبہ سے، یا عقیدت کے غلو سے اس دین کو بدلا اور اس میں نئی نئی باتیں ملائیں۔ اس کے عقائد میں اپنے اوہام و قیاسات اور فلسفوں سے کمی و بیشی اور ترمیم و تحریف کی۔ اس کے احکام میں بدعات کے اضافے کیے۔ خود ساختہ قوانین بنائے۔ جزئیات میں موشگافیاں کیں۔ فروعی اختلافات میں مبالغہ کیا۔ اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنایا۔ اس کے لانے والے انبیاء اور اس کے علمبردار بزرگوں میں سے کسی کی عقیدت میں غلو کیا اور کسی کو بغض و مخالفت کا نشانہ بنایا۔ اس طرح بیشمار مذاہب اور فرقے بنتے چلے گئے اور ہر مذہب و فرقہ کی پیدائش نوع انسانی کو متخاصم گروہوں میں تقسیم کرتی چلی گئی۔ اب جو شخص بھی اصل دین حق کا پیرو ہو اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ان ساری گروہ بندیوں سے الگ ہوجائے اور ان سب سے اپنا راستہ جدا کرلے۔