تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 97
Tafseerوَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿97﴾
- وَهُوَاور وہی
- الَّذِيْوہ جس
- جَعَلَبنائے
- لَكُمُتمہارے لیے
- النُّجُوْمَستارے
- لِتَهْتَدُوْاتاکہ تم راستہ معلوم کرو
- بِهَاان سے
- فِيْمیں
- ظُلُمٰتِاندھیرے
- الْبَرِّخشکی
- وَالْبَحْرِاور دریا
- قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِبیشک ہم نے کھول کر بیان کردی ہیں آیتیں
- لِقَوْمٍلوگوں کے لیے
- يَّعْلَمُوْنَعلم رکھتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔64
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 64
یعنی اس حقیقت کی نشانیاں کہ خدا صرف ایک ہے، کوئی دوسرا نہ خدائی کی صفات رکھتا ہے، نہ خدائی کے اختیارات میں حصہ دار ہے، اور نہ خدائی کے حقوق میں سے کسی حق کا مستحق ہے۔ مگر ان نشانیوں اور علامتوں سے حقیقت تک پہنچنا جاہلوں کے بس کی بات نہیں، اس دولت سے بہرہ ور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو علمی طریق پر آثار کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔