تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 5
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿5﴾
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- لَا تَجْعَلْنَاہمیں نہ بنا
- فِتْنَةًآزمائش (تختۂ مشق)
- لِّلَّذِيْنَان کیلئے جنہوں نے
- كَفَرُوْاکفر کیا، کافر
- وَاغْفِرْاور بخش دے
- لَنَاہمیں
- رَبَّنَا ۚاے ہمارے رب
- اِنَّكَبیشک تو
- اَنْتَتو ہی
- الْعَزِيْزُغالب
- الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنادے۔8 اور اے ہمارے رب، ہمارے قصُوروں سے درگزر فرما، بے شک تُو ہی زبردست اور دانا ہے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُمْتَحِنَة 8
کافروں کے لیے اہل ایمان کے فتنہ بننے کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں جن سے ہر مومن کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافر ان پر غالب آجائیں اور اپنے غلبہ کو اس بات کی دلیل قرار دیں کہ ہم حق پر ہیں اور اہل ایمان برسر باطل، ورنہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ان لوگوں کو خدا کی رضا حاصل ہوتی اور پھر بھی ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوتا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اہل ایمان پر کافروں کا ظلم و ستم ان کی حد برداشت سے بڑھ جائے اور آخر کار وہ ان سے دب کر اپنے دین و اخلاق کا سودا کرنے پر اتر آئیں۔ یہ چیز دنیا بھر میں مومنوں کی جگ ہنسائی کی موجب ہوگی اور کافروں کو اس سے دین اور اہل دین کی تذلیل کا موقع ملے گا۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دین حق کی نمائندگی کے مقام بلند پر فائز ہونے کے باوجود اہل ایمان اس اخلاقی فضیلت سے محروم رہیں جو اس مقام کے شایان شان ہے، اور دنیا کو ان کی سیرت و کردار میں بھی وہی عیوب نظر آئیں جو جاہلیت کے معاشرے میں عام طور پر پھیلے ہوئے ہوں۔ اس سے کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ اس دین میں آخر وہ کیا خوبی ہے جو اسے ہمارے کفر پر شرف عطا کرتی ہو ؟ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 83)۔