Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 6

  1. لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ع﴿6﴾

    1. لَقَدْ كَانَتحقیق (یقیناً ) ہے
    2. لَكُمْتمہارے لئے
    3. فِيْهِمْان میں
    4. اُسْوَةٌ حَسَنَةٌچال (نمونہ) بہترین
    5. لِّمَنْاس کے لئے جو
    6. كَانَ يَرْجُواامید رکھتا ہے
    7. اللّٰهَاللہ
    8. وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۭاور آخرت کا دن
    9. وَمَنْ يَّتَوَلَّاور جو، جس
    10. فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
    11. هُوَ الْغَنِيُّوہ بےنیاز
    12. الْحَمِيْدُستودہ صفات
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اُس شخص کے لیے اچّھا نمونہ ہے جواللہ اور روزِآخر کا امید وار ہو۔9 اِس سےکوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمُود ہے۔10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُمْتَحِنَة 9 یعنی جو اس بات کی توقع رکھتا ہو کہ ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے، اور اس چیز کا امیدوار ہو کہ اللہ اسے اپنے فضل سے نوازے اور روز آخر میں اسے سرخروئی نصیب ہو۔ سورة الْمُمْتَحِنَة 10 یعنی اللہ کو ایسے ایمان لانے والوں کی کوئی حاجت نہیں ہے جو اس کے دین کو ماننے کا دعویٰ بھی کریں اور پھر اس کے دشمنوں سے دوسری بھی رکھیں۔ وہ بےنیاز ہے۔ اس کی خدائی اس کی محتاج نہیں ہے کہ یہ لوگ اسے خدا مانیں۔ اور وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے، اس کا محمود ہونا اس بات پر موقوف نہیں ہے کہ یہ اس کی حمد کریں۔ یہ اگر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے کسی فائدے کے لیے نہیں، اپنے فائدے کے لیے لاتے ہیں۔ اور انہیں ایمان کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا جب تک یہ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی طرح اللہ کے دشمنوں سے محبت اور دوستی کے رشتے توڑ نہ لیں۔