Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 7

  1. عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿7﴾

    1. عَسَى اللّٰهُقریب ہے کہ اللہ
    2. اَنْ يَّجْعَلَکہ وہ کردے
    3. بَيْنَكُمْتمہارے درمیان
    4. وَبَيْنَاور درمیان
    5. الَّذِيْنَان لوگوں کے
    6. عَادَيْتُمْتم عداوت رکھتے ہو
    7. مِّنْهُمْان سے
    8. مَّوَدَّةً ۭدوستی
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. قَدِيْرٌ ۭقدرت رکھنے والا
    11. وَاللّٰهُ غَفُوْرٌاور اللہ بخشنے والا
    12. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔11 اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُمْتَحِنَة 11 اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو اپنے کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کی جو تلقین کی گئی تھی اس پر سچے اہل ایمان اگرچہ بڑے صبر کے ساتھ عمل کر رہے تھے، مگر اللہ کو معلوم تھا کہ اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں اور قریب ترین عزیزوں سے تعلق توڑ لینا کیسا سخت کام ہے اور اس سے اہل ایمان کے دلوں پر کیا کچھ گزر رہی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہارے یہی رشتہ دار مسلمان ہوجائیں گے اور آج کی دشمنی کل پھر محبت میں تبدیل ہوجائے گی۔ جب یہ بات فرمائی گئی تھی اس وقت کوئی شخص بھی یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ نتیجہ کیسے رونما ہوگا۔ مگر ان آیات کے نزول پر چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ مکہ فتح ہوگیا، قریش کے لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جس چیز کی انہیں امید دلائی گئی تھی وہ کیسے پوری ہوئی۔