Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 8

  1. لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ﴿8﴾

    1. لَا يَنْهٰىكُمُتحقیق منع نہیں کرتا
    2. اللّٰهُاللہ
    3. عَنِ الَّذِيْنَان لوگوں سے جو
    4. لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْتم سے نہیں لڑتے
    5. فِي الدِّيْنِدین میں
    6. وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْاور انہوں نے تمہیں نہیں نکالا
    7. مِّنْ دِيَارِكُمْتمہارے گھروں سے
    8. اَنْکہ
    9. تَبَرُّوْهُمْتم دوستی کرو ان سے
    10. وَتُقْسِطُوْٓااور تم انصاف کرو
    11. اِلَيْهِمْ ۭان سے
    12. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    13. يُحِبُّمحبوب رکھتا ہے
    14. الْمُقْسِطِيْنَانصاف کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہےاور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں  کو پسند کرتا ہے۔12
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُمْتَحِنَة 12 اس مقام پر ایک شخص کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ دشمنی نہ کرنے والے کافروں کے ساتھ نیک برتاؤ تو خیر ٹھیک ہے، مگر کیا انصاف بھی صرف انہی کے لیے مخصوص ہے ؟ اور کیا دشمن کافروں کے ساتھ بےانصافی کرنی چاہیے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سیاق وسباق میں دراصل انصاف ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص تمہارے ساتھ عداوت نہیں برتتا، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی اس کے ساتھ عداوت نہ برتو۔ دشمن اور غیر دشمن کو ایک درجہ میں رکھنا اور دونوں سے ایک ہی سلوک کرنا انصاف نہیں ہے۔ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا حق ہے جنہوں نے ایمان لانے کی پاداش میں تم پر ظلم توڑے اور تم کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کیا، اور نکالنے کے بعد بھی تمہارا پیچھا نہ چھوڑا۔ مگر جن لوگوں نے اس ظلم میں کوئی حصہ نہیں لیا، انصاف یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور رشتے اور برادری کے لحاظ سے ان کے جو حقوق تم پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کرنے میں کمی نہ کرو۔