Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 9

  1. اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿9﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. يَنْهٰىكُمُتمہیں منع کرتا ہے
    3. اللّٰهُاللہ
    4. عَنِ الَّذِيْنَان لوگوں سے جو
    5. قٰتَلُوْكُمْتم سے لڑے
    6. فِي الدِّيْنِدین میں
    7. وَاَخْرَجُوْكُمْاور انہوں نے تمہیں نکالا
    8. مِّنْسے
    9. دِيَارِكُمْتمہارے گھروں
    10. وَظٰهَرُوْااور انہوں نے مدد کی
    11. عَلٰٓيپر
    12. اِخْرَاجِكُمْتمہارے نکالنے
    13. اَنْ تَوَلَّوْهُمْکہ تم دوستی کرو ان سے
    14. وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْاور جو ان سے دوستی رکھے گا
    15. فَاُولٰٓئِكَتو وہی لوگ
    16. هُمُ الظّٰلِمُوْنَوہ ظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کر و جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اِخراج میں ایک دُوسرے کی مدد کی ہے۔ اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔13
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُمْتَحِنَة 13 سابقہ آیات میں کفار سے جس ترک تعلق کی ہدایت کی گئی تھی اس کے متعلق لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے ان آیات میں یہ سمجھا یا گیا ہے کہ اس کی اصل وجہ ان کا کفر نہیں بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ ان کی عداوت اور ان کی ظالمانہ روش ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دشمن کافر اور غیر دشمن کافر میں فرق کرنا چاہیے، اور ان کافروں کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرنا چاہیے جنہوں نے کبھی ان کے ساتھ کوئی برائی نہ کی ہو۔ اس کی بہترین تشریح وہ واقعہ ہے جو حضرت اسماء بنت ابی بکر اور ان کی کافر ماں کے درمیان پیش آیا تھا۔ حضرت ابوبکر کی ایک بیوی قتیلہ بنت عبدالعزّٰی کافرہ تھیں اور ہجرت کے بعد مکہ ہی میں رہ گئی تھیں۔ حضرت اسماء انہی کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب مدینہ اور مکہ کے درمیان آمد و رفت کا راستہ کھل گیا تو وہ بیٹی سے ملنے کے لیے مدینہ آئی اور کچھ تحفہ تحائف بھی لائیں۔ حضرت اسماء کی اپنی روایت یہ ہے کہ میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اپنی ماں سے مل لوں ؟ اور کیا میں ان سے صلہ رحمی بھی کرسکتی ہوں ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا اس سے صلہ رحمی کرو (مسند احمد۔ بخاری۔ مسلم)۔ حضرت اسماء کے صاحبزادے عبداللہ بن زبیر اس واقعہ کی مزید تفصیل یہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے حضرت اسماء نے ماں سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں جب اللہ اور اس کے رسول کی اجازت مل گئی تب وہ ان سے ملیں (مسند احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم)۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے کافر ماں باپ کی خدمت کرنا اور اپنے کافر بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنا جائز ہے جبکہ وہ دشمن اسلام نہ ہوں۔ اور اسی طرح ذمی مساکین پر صدقات بھی صرف کیے جاسکتے ہیں (احکام القرآن للجصاص۔ روح المعانی)۔