تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 66. At-Tahrim · Ayah 10
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ﴿10﴾
- ضَرَبَ اللّٰهُبیان کی اللہ نے
- مَثَلًاایک مثال
- لِّلَّذِيْنَ كَفَرُواان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا
- امْرَاَتَبیوی کی
- نُوْحٍنوح کی
- وَّامْرَاَتَ لُوْطٍاور لوط کی بیوی کی
- كَانَتَاوہ دونوں تھیں
- تَحْتَ عَبْدَيْنِماتحت دو بندوں کے
- مِنْسے
- عِبَادِنَاہمارے بندوں میں (سے)
- صَالِحَيْنِدونوں نیک تھے
- فَخَانَتٰهُمَاتو ان دونوں نے خیانت کی ان سے
- فَلَمْ يُغْنِيَاتو نہ وہ دونوں کام آسکے
- عَنْهُمَاان دونوں کو
- مِنَ اللّٰهِاللہ سے
- شَيْئًاکچھ بھی
- وَّقِيْلَ ادْخُلَااور کہہ دیا گیا دونوں داخل ہوجاؤ
- النَّارَآگ میں
- مَعَ الدّٰخِلِيْنَداخل ہونے والوں کے ساتھ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ کافروں کے معاملہ میں نوح ؑ اور لُوط ؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیّت میں تھیں ، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی 24 اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آسکے۔ دونوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ جاوٴ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة التَّحْرِيْم 24
یہ خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بد کاری کی مرتکب ہوئی تھیں بلکہ اس معنی میں ہے کہ انہوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کا ساتھ نہ دیا بلکہ ان کے مقابلہ میں دشمنان دین کا ساتھ دیتی رہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں " کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ ان دونوں عورتوں کی خیانت دراصل دین کے معاملہ میں تھی۔ انہوں نے حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط علی السلام کا دین قبول نہیں کیا۔ حضرت نوح علی السلام کی بیوی اپنی قوم کے جباروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط ؑ کی بیوی اپنے شوہر کے ہاں آنے والے لوگوں کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی "۔ (ابن جریر)