تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 7
Tafseerاِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ﴿7﴾
- اِذَآ اُلْقُوْاجب وہ ڈالیں جائیں گے
- فِيْهَااس میں
- سَمِعُوْاسنیں گے
- لَهَاواسطے اس کے
- شَهِيْقًاچلانا
- وَّهِىَ تَفُوْرُاور وہ جوش کھارہی ہوگی
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دَھاڑنے کی ہولناک آوازیں سُنیں گے 13 اور وہ جوش کھا رہی ہوگی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُلْک 13
اصل میں لفظ شھیق استعمال ہوا ہے۔ جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہوگی جہاں ان لوگوں سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورة ہود کی آیت 106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ " ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے "۔ اور پہلے مفہوم کی تائید سورة فرقان آیت 12 سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہوگا اور جہنمیوں کا بھی۔