تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 42
Tafseerیَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ﴿42﴾
- يَوْمَ يُكْشَفُجس دن کھول دیاجائے گا
- عَنْ سَاقٍپنڈلی سے
- وَّيُدْعَوْنَاور وہ بلائے جائیں گے
- اِلَى السُّجُوْدِطرف سجدوں کے
- فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَتو وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس روز سخت وقت آپڑے گا 24 اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَلَم 24
اصل الفاظ ہیں یوم یکشف عن ساق، " جس روز پنڈلی کھولی جائے گی "۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو کشف ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے بھی اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں اور ثبوت میں کلام عرب سے استشہاد کیا ہے۔ ایک اور قول جو ابن عباس اور ربیع بن انس سے منقول ہے اس میں کشف ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا لیا گیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز تمام حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی اور لوگوں کے اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے۔