Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 43

Tafseer
  1. خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ﴿43﴾

    1. خَاشِعَةًنیچی ہوں گی
    2. اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
    3. تَرْهَقُهُمْچھا رہی ہوگی ان پر
    4. ذِلَّةٌذلت
    5. وَقَدْ كَانُوْااور تحقیق تھے وہ
    6. يُدْعَوْنَبلائے جاتے
    7. اِلَى السُّجُوْدِسجدوں کی طرف
    8. وَهُمْ سٰلِمُوْنَاور وہ صحیح سلامت تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذِلّت اِن پر چھا رہی ہوگی۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا(اور یہ انکار کرتے تھے)۔ 25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَلَم 25 اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز علی الاعلان اس بات کا مظاہرہ کرایا جائے گا کہ دنیا میں کون اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا تھا اور کون اس سے منحرف تھا۔ اس غرض کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ بجا لائیں۔ جو لوگ دنیا میں عبادت گزار تھے وہ سجدہ ریز ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے آگے سر نیاز جھکانے سے انکار کردیا تھا ان کی کمر تختہ ہوجائے گی۔ ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہاں عبادت گزار ہونے کا جھوٹا مظاہرہ کرسکیں۔ اس لیے وہ ذلت اور پیشمانی کے ساتھ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے۔
Tafheem-ul-Quran - 68 : 43