Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 44

Tafseer
  1. فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ﴿44﴾

    1. فَذَرْنِيْپس چھوڑدو مجھ کو
    2. وَمَنْ يُّكَذِّبُاور جو کوئی جھٹلاتا ہے
    3. بِهٰذَااس
    4. الْحَدِيْثِبات کو
    5. سَنَسْتَدْرِجُهُمْعنقریب ہم آہستہ آہستہ کھینچیں گے ان کو
    6. مِّنْ حَيْثُجہاں سے
    7. لَا يَعْلَمُوْنَوہ جانتے نہ ہوں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے نبیؐ ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ 26 ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہو گی۔ 27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَلَم 26 یعنی ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑو۔ ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔ سورة الْقَلَم 27 بے خبری میں کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے، صحت، مال، اولاد اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں، جن سے دھوکا کھا کر وہ سمجھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں خوب کر رہا ہوں، میرے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ اسی طرح وہ حق دشمنی اور ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ جو نعمتیں اسے مل رہی ہے وہ انعام نہیں ہیں بلکہ در حقیقت یہ اس کی ہلاکت کا سامان ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 68 : 44