تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 68. Al-Qalam · Ayah 49
Tafseerلَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ﴿49﴾
- لَوْلَآاگر نہ ہوتی یہ بات
- اَنْ تَدٰرَكَهٗکہ پالیا اس کو
- نِعْمَةٌایک نعمت نے
- مِّنْ رَّبِّهٖاس کے رب کی طرف سے
- لَنُبِذَالبتہ پھینک دیا جاتا
- بِالْعَرَآءِچٹیل میدان میں
- وَهُوَاور وہ
- مَذْمُوْمٌمذموم ہوتا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر اس کے ربّ کی مہربانی اُس کے شاملِ حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموُم ہو کر چَٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا۔ 34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَلَم 34
اس آیت کو سورة صافات کی آیات 142 تا 146 کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے، مگر وہ اس وقت مذمت میں مبتلا نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس جگہ ایک بیلدار درخت اگا دیا، تاکہ اس کے پتے ان پر سایہ بھی کریں اور وہ اس کے پھل سے بھوک اور تشنگی بھی دور کرسکیں۔