تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 4
Tafseerتَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾
- تَعْرُجُچڑھتے ہیں
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- وَالرُّوْحُاور روح
- اِلَيْهِاس کی طرف
- فِيْ يَوْمٍایک دن میں
- كَانَ مِقْدَارُهٗہے اس کی مقدار
- خَمْسِيْنَپچاس
- اَلْفَ سَنَةٍہزار سال
Translation · Tafheem-ul-Quran
ملائکہ اور رُوح 3 اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں 4 ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ 5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمَعَارِج 3
روح سے مراد جبریل ؑ ہیں اور ملائکہ سے الگ ان کا ذکر ان کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ سورة شعراء میں فرمایا گیا ہے کہ نزل بہ الروح الامین علی قلبک (اس قرآن کو روح امین لے کر تمہارے دل پر نازل ہوئے ہیں)۔ اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک (کہو کہ جو شخص جبریل کا اس لیے دشمن ہو کہ اس نے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔۔۔) ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ روح سے مراد جبریل ہی ہیں۔
سورة الْمَعَارِج 4
یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کیے جاسکتے۔ ہم نہ فرشتوں کی حقیقت جانتے ہیں، نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں، نہ یہ بات ہمارے ذہن کی گرفت میں آسکتی ہے کہ وہ زینے کیسے ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہ تصور نہیں کیا سکتا کہ وہ کسی خاص مقام پر رہتا ہے، کیونکہ اس کی ذات زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے۔
سورة الْمَعَارِج 5
سورة حج، آیت 47 میں ارشاد ہوا ہے " یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ "۔ سورة السجدہ، آیت 5 میں فرمایا گیا ہے " وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، پھر (اس کی روداد) اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے "۔ اور یہاں عذاب کے مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی گئی ہے کہ جو لوگ مذاق کے طور پر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی باتوں پر صبر کریں اور اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ان سب ارشادات پر مجموعی نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ اپنے ذہن اور اپنے دائرہ فکر و نظر کی تنگی کے باعث خدا کے معاملات کو اپنے وقت کے پیمانوں سے ناپتے ہیں اور انہیں سو پچاس برس کی مدت بھی بڑی لمبی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایک اسکیم ہزار ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے۔ اور یہ مدت بھی محض بطور مثال ہے، ورنہ کائناتی منصوبے لاکھوں اور کروڑوں اور اربوں سال کے بھی ہوتے ہیں۔ انہیں منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ وہ ہے جس کے تحت زمین پر نوع انسانی کو پیدا کیا گیا ہے اور اس کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے کہ فلاں ساعت خاص تک یہاں اس نوع کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا کہ یہ منصوبہ کب شروع ہوا، کتنی مدت اس کی تکمیل کے لیے طے کی گئی ہے، کون سی ساعت اس کے اختتام کے لیے مقرر کی گئی ہے جس پر قیامت برپا کی جائے گی، اور کون سا وقت اس غرض کے لیے رکھا گیا ہے کہ آغاز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسانوں کو بیک وقت اٹھا کر ان کا حساب لیا جائے۔ اس منصوبے کے صرف اس حصے کو ہم کسی حد تک جانتے ہیں جو ہمارے سامنے گزر رہا ہے یا جس کے گزشتہ ادوار کی کوئی جزوی سی تاریخ ہمارے پاس موجود ہے۔ رہا اس کا آغاز و انجام، تو اسے جاننا تو درکنار، اسے سمجھنا بھی ہمارے بس سے باہر ہے، کجا کہ ہم ان حکمتوں کو سمجھ سکیں جو اس کے پیچھے کام کر رہی ہیں۔ اب جو لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منصوبے کو ختم کر کے اس کا انجام فوراً ان کے سامنے لے آیا جائے، اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اسے اس بات کی دلیل قرار دیتے کہ انجام کی بات ہی سرے سے غلط ہے، وہ درحقیقت اپنی ہی نادانی کا ثبوت پیش کرتے ہیں (مزیدتشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، الحج، حواشی 92۔ 93۔ جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ 9)۔