تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 10
Tafseerوَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ﴿10﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
- لَا نَدْرِيْٓہم نہیں جانتے
- اَشَرٌّآیا بُرائی
- اُرِيْدَارادہ کیا گیا
- بِمَنْان کے ساتھ
- فِيمیں
- الْاَرْضِجو زمین
- اَمْیا
- اَرَادَارادہ فرمایا ہے
- بِهِمْان سے
- رَبُّهُمْان کا رب
- رَشَدًاہدایت
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ کہ”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی بُرا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا ربّ اُنہیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“ 10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 10
اس سے معلوم ہوا کہ عالم بالا میں اس قسم کے غیر معمولی انتظامات دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر کوئی عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ہوا اور منشائے الہی یہ ہو کہ اس کے نزول سے پہلے جن اس کی بھنک پا کر اپنے دوست انسانوں کو خبردار نہ کردیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے زمین میں کسی رسول کو مبعوث فرمایا ہو اور تحفظ کے ان انتظامات سے مقصود یہ ہو کہ رسول کی طرف جو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں ان میں نہ تو شیاطین کسی قسم کی خلل اندازی کرسکیں اور نہ قبل از وقت یہ معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کو کیا ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پس جنوں کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے آسمان میں جو چوکی پہرے دیکھے اور شہابوں کی اس بارش کا مشاہدہ کیا تو ہمیں یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ ان دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت درپیش ہے۔ آیا اللہ تعالیٰ نے زمین میں کسی قوم پر یکایک عذاب نازل کردیا ہے ؟ یا کہیں کوئی رسول مبعوث ہوا ہے ؟ اسی تلاش میں ہم نکلے تھے کہ ہم نے وہ حیرت انگیز کلام سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں معلوم ہوگیا کہ اللہ نے عذاب نازل نہیں کیا ہے بلکہ خلق کو راہ راست دکھانے کے لیے ایک رسول مبعوث فرما دیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الحجر، حواشی 8 تا 12۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 7۔ جلد ششم، الملک، حاشیہ 11)۔