تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 2
Tafseerیَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ﴿2﴾
- يَّهْدِيْٓوہ رہنمائی کرتا ہے
- اِلَى الرُّشْدِہدایت کی طرف
- فَاٰمَنَّاتو ہم ایمان لائے
- بِهٖ ۭاس پر
- وَلَنْ نُّشْرِكَاور ہم ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے
- بِرَبِّنَآاپنے رب کے ساتھ
- اَحَدًاکسی کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“ 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 3
اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب ہونے کے منکر نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں بھی مشرکین پائے جاتے ہیں جو مشرک انسانوں کی طرح اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں، چناچہ جنوں کی یہ قوم جس کے افراد قرآن سن کر گئے تھے مشرک ہی تھے۔ تیسرے یہ کہ نبوت اور کتب انسانی آسمانی کے نزول کا سلسلہ جنوں کے ہاں جاری نہیں ہوا، بلکہ ان میں سے جو جن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ یہی بات سورة احقاف آیات 29۔ 31 سے بھی معلوم ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ جن جنہوں نے اس وقت قرآن سنا تھا، حضرت موسیٰ کے پیرو وں میں سے تھے اور انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کو دعوت دی تھی کہ اب جو کلام خدا کی طرف سے پچھلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ سورة رحمان بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس کا پورا مضمون ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مخاطب انسان اور جن دونوں ہیں۔