تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 4
Tafseerوَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ﴿4﴾
- وَّاَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُاور یہ کہ کہتے تھے
- سَفِيْهُنَاہم میں سے بیوقوف
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- شَطَطًابڑھاکر باتیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ 5 اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 5
اصل میں لفظ سفیھنا استعمال کیا گیا ہے جو ایک فرد کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے اور ایک گروہ کے لیے بھی۔ اگر اسے ایک نادان فرد کے معنی میں لیا جائے تو مراد ابلیس ہوگا۔ اور اگر ایک گروہ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جنوں میں بہت سے احمق اور بےعقل لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔